ملائکہ اور روح کے بارے سوال

 کتاب کافی کے باب روح میں سعد کافی سے روایت درج ہے کہ ایک شخص جناب علی مرتضی حیدر کرار علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: یاعلی ! کیا جبرائیل کو روح نہیں کہہ سکتے ؟ جناب علی مرتضی علیہ السلام نے فرمایا: روح جبرئیل نہیں ہے اور آپ نے اس بات کو کئی مرتبہ دہرایا۔ 

وہ شخص کہنے لگا: آپ بہت بڑی بات کر رہے ہیں، کیونکہ اکثر لوگوں کا بھی خیال ہے کہ روح سے مراد جبرائیل ہیں۔ آپ نے فرمایا: تو کوئی گمراہ شخص معلوم ہوتا ہے اور گمراہ لوگوں جیسی باتیں کر رہا ہے۔ شاید تو خدا کے اس فرمان کو بھلا چکا ہے: اتی امرالله فلا تستعجلوه شبحنة و تعلى عمّا يشركون و ينزل المليئة بالروح (انحل، آیا، پاره ۱۳) ’’وہ جس بندے پر چاہتا ہے، اپنے حکم سے ملائکہ کو روح کے ساتھ نازل کر دیتا ہے ۔روح ملائکہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہے اور جبرائیل تو ملک ہیں اور ملائکہ میں سے ایک فرشتہ ہیں۔سورۂ قدر میں ارشاد رب العزت ہے:


تنزل المليكة والروح فيها بإذن ربهم من كل أمر ’’اس میں ملائکہ اور روح القدس اذن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں‘۔ (القدر، آیہ۱۴، پارہ ۳۰)