قالین کی تقسیم
محمد بن جریر طبری بیان کر تے ہیں کہ جنگ مدائن میں سعد بن ابی وقاص سالار لشکر تھا۔ جب کسری کے خزانے کو جمع کیا گیا تو ان میں ایک قالین بھی مدینے روانہ کیا گیا جس کی لمبائی و چوڑائی چھ ہاتھ تھی۔ (ایک ہاتھ تین گز کا ہوتا ہے یعنی اس قالین کی لسبائی و چوڑائی تقریبا ۱۸ گز تھی)۔ (بحوالہ احسن اللغات مترجم )
یہ قالین ایک خاص پمائش کی مقدار پر بچھائی جاتی تھی۔ اس قالین پر بے حد خوبصورت نقش و نگار اور تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ایسے باغیچے، باغات،محلات، قلعے اور مکانات بنے ہوئے تھے جن کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی تھی۔ باغات ،نہر میں اور سبزہ، جن میں ایسی گل کاری کی گئی تھی کہ بنانے والے کی فنی مہارت کی داد دیے بغیر نہ رہا جاۓ ۔ اگر دن کو بچایا جا تا تو اس کی خوبصورتی نقش و نگار کا ایک حسن چاروں سو پھیل جا تا۔ اور اگر رات کو بچایا جا تا تو جگمگاتے ہوۓ چاند ستاروں کا گمان ہوتا اور ایسا اجالا پھیل جا تا گویا بجلی کے ہزار چراغ روشن ہو گئے ہوں۔ جب اس حسین و جمیل اور بیش بہا قیمت اور نادر قالین کو حضرت عمر کے پاس لایا
گیا تو وہ منبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دینے لگے، اور لوگوں سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ کچھ خوشامدی لوگوں نے کہا: یا خلیفہ! یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔ کچھ نے کہا: یہ آپ کو اختیار ہے جیسا آپ چاہیں ۔ اس وقت جناب سید الصادقین" ، امام المتقین جناب علی علیہ السلام نے فرمایا:
یا ابا حفص لم تجعل علمك جهلا ويقنيك تسكاً ليس لك من الدنيا ما اعطیت فامضیت لیست وابلیت او اکلت فاخذت دینی اے عمر! اباحفص! اپنے آپ کو فریب اور دھوکا نہ دے۔ اس مسئلے کا حکم واضح و روشن ہے۔ اپنے علم کو جہالت میں تبدیل نہ کر ۔ مت کہہ، کہ میں نہیں جانتا اور اپنے یقین کو شک میں تبدیل نہ کر۔ مال دنیا سے تیرا وہی کچھ ہے جو تجھے دیا گیا ہے۔ تو اسے اپنے تصرف میں لایا یا پرانا کیا، اس کو پہنا، یا پہنایا، اسے کھایا، یا کھلا یا اور اسے تباہ کیا ،تو نے بر بادی کی‘‘۔ حضرت عمر نے کہا: یا ابالحسن ! آپ نے شچ فرمایا۔ جناب امیر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اس قالین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ، اور صحابہ رضوان اللہیہم کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ اس قالین کا ایک ٹکڑا جناب امیر کے حصہ میں بھی آیا۔ آپ نے اس ٹکڑے کو بیسں ہزار دینار میں فروخت کر دیا۔ روضة الصفا کی روایت ہے کہ اس قالین کا ہر ایک کڑا ہتھیلی کے سائز سے زیادہ نہ
جناب صدوق اکمال الدین واتمام العمۃ میں بسلسلۂ اسناد امام رضا علیہ السلام سے اور وہ اپنے آبا ؤ طاہرین سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: جوشخص یہ چاہتا ہے کہ میرے دین پر قائم رہے، اور میرے بعد نجات کی کشتی پر سوار ہو، وہ علی کی پیروی کرے، وہ میرے وھی اور میری امت میں میرے جانشین وخلیفہ ہیں۔ میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی۔

0 Comments