دنیا ایک نا پائیدار چیز ہے

 شیخ طوسی علیہم الرحمۃ نے امالی میں ربیعہ اور عمارہ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب لوگ امیرالمومنین جناب علی بن ابی طالب علیہ السلام کو چھوڑ کر حصول مال وزر کی خاطر حاکم شام معاویہ کی جانب رغبت کر رہے تھے تو آپ کے صحابہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: یا امیرالمومنین ! یہ مال غنیمت ان لوگوں کو دے دیں، اور جو حصہ ان کا مقرر ہے اس میں کچھ اضافہ کر دیں تا کہ یہ لوگ ہمیں نہ چھوڑیں اور ہمارے ساتھ رہیں۔ جناب امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: کیا خیال ہے کہ میں ناحق تقسیم مال سے ان لوگوں کی مددکروں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگر میرا اپنا ذاتی مال ہوتا اور مجھے تقسیم کرنا ہوتا پھر بھی میں اس کو ان میں برابر تقسیم کرتا۔ چہ جائیکہ یہ ان کا مال ہے اور میں کیوں کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت دوں ۔ یہ مال تقسیم ہوگا تو سب میں برابر تقسیم ہوگا۔


مالک اشتر سے بھی اس قسم کی ایک روایت منقول ہے کہ ایک دن مالک اشتر نے مولاۓے مشکل کشاہ جناب علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: یاامیرالمومنین ! ہم نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں فتح حاصل کی تو لوگ ہرطرح سے ہماری نصرت کے لیے آمادہ تھے، لیکن اس تقسیم مال غنیمت کے بارے میں آپ نے غریب وامیر ، آزاد و غلام ،عربی و عجمی کے درمیان مال غنیمت کو برابرتقسیم کرنے کا اعلان فرمایا ہے۔ اس اعلان سے لوگوں کے خیالات بدل رہے ہیں اور ذاتی طور پر وہ منتشر نظر آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر حاکم شام کی طرف مائل ہو جائیں، کیونکہ ان میں اکثریت طالب دنیا کی ہے اور اہل معرفت بہت ہی کم لوگ ہیں۔ آپ بھی ان طلب دنیا ولوں پر کچھ مال خرچ کر میں اور ان لوگوں کو مال غنیمت میں سے ان کی طلب سے زیاد تقسیم کر یں تا کہ یہ لوگ ہمارے ساتھ رہیں۔ مولائے کائنات علی بن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: اے مالکٹ! جو کچھ تو نے بیان کیا ہے وہ ہماری سیرت اور ہمارے نظام عدل کے منافی ہے کیونکہ خداۓ قدوں کا حکم ہے کہ جو نیکی کرتا ہے تو وہ اپنے لیے اور جو برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو بھی اپنے لیے خداکسی پر ظلم نہیں کرتا۔ مجھے بھی یہی خیال آ تا ہے کہ کہیں کسی کی حق تلفی نہ ہو اور عدل میں فرق نہ آ جاۓ ۔ اور تمھارا یہ کہنا ہے کہ لوگ ہمیں چھوڑ دیں گے تو ان پر عماری طرف سے ظلم تو ہے نہیں، بلکہ ہم نے تو عدل قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان لوگوں کا ہمیں چھوڑنا صرف اور صرف مال دنیا کے حصول کی خاطر ہے، اور دنیا ایک ناپائیدار چیز ہے۔ البتہ بروز قیامت می لوگ جواب دہ ضرور ہوں گے کہ تم نے عمل خدا


کے لیے کیا تھایا دنیا کے لیے؟ میں مال غنیمت کو عادلانہ طریقے ہی سے تقسیم کروں گا۔ اور کسی کا حق دوسرے کو ہرگز نہیں دوں گا اور نہ ہی دولت خرچ کر کے ان لوگوں کی مدد چاہتا ہوں ۔



Download Now