بیٹے سے انکاری باپ


ثقتہ الاسلام کلینی اصول کافی میں اپنی سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں ایک سیاہ فام شخص ایک سیاہ فام عورت کا ہاتھ پکڑ کر حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا: میں اور میری یہ بیوی سیاہ فام ہیں لیکن میری بیوی نے جو بچہ جنا ہے یہ سفید رنگت رکھتا ہے۔ یہ میرا بیٹا نہیں


حضرت عمر نے صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اس معاملے میں آپ سب کی کیا


راۓ ہے؟


انھوں نے کہا: اس کا سیاہ فام شو ہر ٹھیک کہہ رہا ہے کہ ہم دونوں سیاہ فام ہیں اور یہ کہ ہماری نسل اور رنگ سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔ اس عورت کو سنگسار کرنا چاہیے۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دیا جاۓ ۔ جب اس واقعہ کی اطلاع جناب علی مرتضی علیہ السلام تک پہنچی تو آپ تشریف لائے اور اس واقعہ کی تحقیق کے بعد سیاہ فام مرد کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: تواپنی بیوی پر تہمت لگا رہا ہے۔


اس شخص نے کہا: نہیں یاعلی! جناب امیر نے فرمایا: کیا تو نے حالت حیض میں اس سے ہم بستری کی ہے؟ أس شخص نے کہا: ایک رات میں نے اس سے جماع کرنا چاہا تو میری بیوی نے کہا کہ میں حیض سے ہوں۔ میں نے خیال کیا کہ یہ فقظ بہانہ کر رہی ہے کیونکہ موسم سرد ہے، اس پر غسل کرنا مشکل ہے تو میں نے اس سے جماع کر دیا۔ جناب امیر علیہ السلام نے عورت سے فرمایا: کیا حالت حیض میں تیرے شوہر نے تجھ سے جماع کیا تھا؟


اس سیاہ فام عورت نے عرض کیا: ہاں! میں نے اسے بہت سمجھایا مگر اس نے میری بات کو قبول نہ کیا، اور میرے ساتھ حالت حیض میں جماع کر دیا۔ جناب امام المتقین  نے فرمایا: جاؤ یہ تمہاری اپنی کارستانی کا نتیجہ ہے۔ یہ بیٹا تمہارا ہی ہے۔ کیونکہ جب نطفہ ٹھہرا تو اس پر خون غالب ہوا ہے۔ اگر حرکت کرتا تو تمہارا بیٹا بھی تمہاری طرح سیاہ ہوتا۔ مؤلف فرماتے ہیں: مناقب سے نقل کردہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں ماں باپ سفید رنگت رکھتے تھے اور ان کا فرزند سیاہ تھا تو جناب مولاۓ کائنات نے فرمایا: خون نطفہ پر غالب آیا ہے، اس نے بیٹے کے چہرے کو سیاہ کر دیا ہے۔ یا مرکن کر حضرت عمر نے کہا: لولا على لهلك عمر اگر علی نہ ہوتے تو عمر بلاک ہوجاتا‘‘۔ مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ارشاد ہے: قلع امرا فيك على احسنه حتى ياتيك ما يغلبك منه ولا تظنن بكلمة خرجت من اخيك سوء وانت تعبدلوا في الخير معملا (کشف الربی شهیدثانی) تمہیں چاہیے کہ اپنے برادر مومن کے ہرقول وفعل پر غلط بیانی اور بدگمانی کی بجاۓ صیح و درستی کی بنیادر کھتے ہوۓ اس کی تعبیر احسن طریقے سے کرو‘‘۔