ماں سے شادی۔                  

ابن طلحہ نے مطالب السؤال میں اور ابن شہر نے مناقب میں تحریر کیا ہے کہ حضرت امیرالمونین علیہ السلام کے کوفہ آنے کے بعد تمام قبائل کے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوۓ ۔ ان میں ایک وہ نو جوان بھی تھا جو اکثر اوقات بوقت جہاد آپ کے ہمرکاب رہتا تھا۔ اس نے قبائل عرب کی ایک عورت سے شادی کر لی تھی اور اب کوفہ میں رہائش پذیر تھا۔ ایک روز جناب امیر علیہ السلام نے صبح کی نماز پڑھائی اور آپ نے اس نوجوان سے فرمایا: فلاں محلہ میں جاؤ اور فلاں مسجد کے پہلو میں ایک مکان ہے۔ جب تم وہاں جاؤ گے تو اس گھر کے اندر سے ایک مرد اور عورت کی ایک دوسرے سے بلند آواز سے جھگڑنے کی آواز میں سنو گے۔ تم جاؤ اور ان دونوں کو فورا میرے سامنے حاضر کرو۔نو جوان چلا گیا تو واقعا وہ دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ وہ ان دونوں کو پکڑ کر جناب امیرالمونین علیہ السلام کی خدمت میں لے آیا۔ جناب مولاۓ کائنات نے پوچھا: تمہارے درمیان یہ کیسا جھگڑا ہے؟ وہ نوجوان کہنے لگا: یا امیر ! میں نے اس عورت سے نکاح کیا ہے۔ جب خلوت اور تنہائی کا وقت آیا تو میرے دل میں اس کے خلاف سخت نفرت پیدا ہوگئی۔ میرے دل نے چاہا کہ میں راتوں رات اس کو اپنے گھر سے نکال دوں یا اس سے ڈور چلا جاؤں ۔اسی وجہ سے اب تک ہمارے درمیان جھگڑا ہور ہا ہے۔ جناب امیرالمومنین نے فرمایا: کھ با تیں ایسی ہوتی ہیں جو مجمع عام میں نہیں کی جاتیں لہذا تمام لوگ باہر چلے جائیں تا کہ میں حقیقت واضح کرسکوں۔ لوگ باہر چلے گئے ، سواۓ اس عورت اور مرد کے۔ پھر جناب سید الصادقین نے عورت سے فرمایا: اس نو جوان کو پہچانتی ہے؟ عورت نے کہا: نہیں جناب امیر ۔

مولاعلی نے فرمایا: اگر میں تجھے اس کی حقیقت بتاؤں تو انکار تو نہیں کرے گی؟ عورت نے کہا نہیں حضور! میں انکارنہیں کروں گی۔ جناب علی مرتضی علیہ السلام نے فرمایا: تو فلاں شخص کی بیٹی ہے، تیرا ایک چازاد بھائی تھا کہ جس سے تو محبت کرتی تھی اور وہ تجھ سے محبت کرتا تھالیکن تیرے باپ کو وہ لڑ کا پسند نہ تھا، اس لیے وہ تیرا نکاح تیرے چچازاد سے نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تیرے باپ نے اسے اتنا دور کر دیا تھا کہ تم ایک دوسرے سے مل ہی نہ سکو۔ عورت نے کہا: یا امیرالمومنین ! واقعا بات اس طرح ہے جو آپ نے فرمائی

جناب امیر علیہ السلام نے فرمایا: ایک رات تو رفع حاجت کے لیے باہر گئی تو اچانک تیرا چچازاد آ گیا اور اس نے تجھے بدکاری پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد تو حاملہ ہوگئی۔اپنی ماں کو تو تو نے یہ راز بتا دیا لیکن اپنے باپ سے اس معاملے کو پوشیدہ رکھا۔ جب تیرا بچہ پیدا ہوا تو تو نے اس بچے کو کپڑے میں لپیٹ کر گھر سے باہر گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔

اس وقت ایک کتا بچے کے پاس آ گیا ، اور اس کی بو سونگھنے لگا۔ تو نے ایک پتھر اٹھا کر اس کتے کو مارا،لیکن وہ پتھر کتے کو لگنے کے بجاۓ بچے کے سر پر جا کر لگا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ تو اور تیری ماں دوڑ کر بچے کے پاس گئیں اور تیری ماں نے اس کے زخم پر پٹی باندھی اور پھر بچے کو وہیں چھوڑ دیا۔ البتہ تو نے دست دعا بلند کیے اور ی دعامانگی: اے اللہ! اس کی حفاظت فرما کہ تو امانت کی حفاظت کرنے والا ہے ۔ جب اس عورت نے یہ سب باتیں سنیں تو خاموش ہوگئی۔ جناب ابا الحسن علیہ السلام نے فرمایا:اب تو بتا حقیقت کیا ہے؟
عورت کہنے گی: یا مولا! جو کچھ آپ نے فرمایا ہے: کی ہے لیکن اس راز کا علم سواۓ میری ماں کے اور کسی کونہیں تھا۔

مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے اللہ نے یہ تمام عطا کیا ہے۔ آخرکار اللہ کریم جو حافظ و ناصر ہے اس نے تیرے بچے کو اپنے حفظ و امان میں رکھا، اور صبح سویرے ایک شخص نے اسے دیکھا تو وہ اٹھا کر اپنے گھر لے گیا۔ وہاں اس کی تربیت کی ۔ پھر یہ جوان ہوا، اور ان لوگوں کے ساتھ مل کر کوفہ آیا۔ پھر تیرے ساتھ اس کا عقد ہوا، حالانکہ یہ تیرا وہی بیٹا ہے۔ پھر آپ نے اس نوجوان سے فرمایا: اپنے سر سے کپڑا ہٹا جب نو جوان نے کپڑا ہٹایا تو اس کے زخم کی جگہ واضح نظر آ رہی تھی۔ پھر مولاۓ کائنات علیہ السلام نے فرمایا: یہ تیرا بیٹا ہے اور خدا نے تمہیں ایک فعل بد سے محفوظ رکھا۔

اس واقعہ سے امام متقین ولی المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے اورعلم امامت اور فضائل ومناقب اور بزرگی کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ قال رسول الله: قال الله تعالى: لو اجتمع الناس كلهم

على ولاية على ما خلقت النار ’’ رسول اللہ نے فرمایا: الہ تعالی فرما تا ہے: اگر تمام لوگ علی کی ولایت پر جمع ہو جاتے تو میں جہنم کو پیدا نہ کرتا‘‘۔