ایک رات کی سہاگن کا مطالبہ
یہ واقعہ بھی مناقب میں درج کیا گیا ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں ایک عورت خلیفہ کے دربار میں آئی اور عرض کیا: اے صاحب اختیار! اے خلیفۃ المسلمین! تمہاری ایک شادی شدہ اور جوان عورت کے بارے میں کیا راۓ ہے کہ جس نے سہاگ کی پہلی رات اپنے شوہر کے ساتھ گزاری ہو اور صبح ہوتے ہی اس نے اپنے والدین سے دوسرے شوہر کا مطالبہ کیا ہو۔ کیا آپ اس عمل کو جائز سمجھتے ہیں؟
تمام حاضرین نے اس عورت کی بات کو جھٹلایا اور کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شوہر کے ہوتے ہوۓ دوسرا شوہر اختیار کرے۔
امام المتقین جناب علی مرتضلی نے فرمایا
احضرني بعلك
تم اپنے شوہر کو میرے سامنے حاضر کرو‘۔
عورت اپنے شوہر کو لے کر دوبارہ حاضر ہوئی ۔ جناب امیر نے اس مردکو حکم دیا کہ ابھی اپنی بیوی کو طلاق دو۔ اس مرد نے کسی حیل و جہت کے بغیر اسی لمحے جناب مولائے کائنات کے حکم کی پیروی کرتے ہوۓ اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور اپنے
حق میں کوئی دلیل پیش نہ کی ۔
جناب امیر علیہ السلام نے حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ شخص نامرد ہے۔ اور اس نے خوداعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو خود نا مرد کیا ہوا ہے۔
مولائے کائنات علی علیہ السلام نے اس عورت کو عدت کے ایام گزارے بغیر دوسرے مرد کے نکاح میں دے دیا۔ (علی بن ابراہیم کی کتاب ’’عجیب فیصلے‘‘ میں اس فیصلے کو حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں لکھا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب)

0 Comments