قتل کابدلہ قتل
صاحب ناسخ التواریخ حالات امیر المومنین لکھتے ہیں اور صاحب مناقب . احمد بن عامر بن سلیمان طائی حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کا بیٹاقتل ہو گیا۔مقتول کا باپ قاتل کو پکڑ کر حضرت عمر کے پاس لایا۔ حضرت نے اس قاتل کو سزاۓ موت کا حکم دیا۔ مقتول کے باپ نے تلوار کے دو وار کیے اور اسے یقین ہوگیا کہ قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ لیکن قاتل کے جسم میں ابھی رمق جان باقی تھی ۔ اس کےورثہ اسے گھر لے گئے، اور اس کی جان بچانے کے لیے انھوں نے علاج شروع کر دیا۔
قدرت خدا کی کہ چھ ماہ کے عرصہ میں وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ایک دن وہ اپنے گھر سے باہر آیا تو مقتول کا باپ اسے بازار میں مل گیا۔ وہ اسے گریبان سے پکڑ کر پر حضرت عمر کے پاس آیا۔ حضرت عمر نے دوسری بار اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ و شخص مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس فریاد لے کرحاضر ہوا۔ جناب امیر علیہ السلام نے حضرت عمر سے فرمایا کہ تم نے اس شخص کے
بارے میں کیا حکم دیا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: اے ابالحسن!
النفس يا النفس _ قتل کا بدلہ قتل‘۔ امیر علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ اس کوقتل نہیں کرا چکے؟ حضرت عمر نے کہا: میں نے اسے قتل تو کرایا تھا مگر وہ زندہ رہا۔ امام المتقین علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا اب اسے دوبار قتل کر نا چاہتے ہیں؟ حضرت عمراس وقت خاموش رہے۔ جناب امیر علیہ السلام نے مقتول کے باپ سے پوچھا: کیا تو نے اس شخص کوقتل نہیں کیا تھا؟
اس نے جواب دیا: یا امیر! میں نے اسے قتل تو کر دیا تھا۔ اب آپ ہی فرمایئے کیا میرے بیٹے کا خون باطل ہوگیا ہے؟ جناب علی ابن ابی طالب نے فرمایا نہیں تمہارے بیٹے کا خون باطل نہیں ہوا ہے مگر اب انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ تجھے اس شخص کے حوالے کر دیا جائے تا کہ وہ تجھ سے پہلے اس کا قصاص لے جوتو اس پر تلوار کے دو وار کر چکا ہے۔ پھر اس کے بعد تو اس سے اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ لیا اور آ گاہ رہ۔ اس کا قصاص جو تیرے اوپر ہے وہ تیری موت ہے اور قصاص کا دینا بہت ضروری ہے۔ یہ سن کر وہ شخص حیرت زدہ ہو گیا۔ کہنے لگا: میں اپنے بیٹے کے خون سے درگزر کرتا ہوں۔ پھران کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا۔ انھوں نے ایک دوسرے کو معاف کر دیا۔ جب حضرت عمر نے یہ فیصلہ سنا تو اپنے ہاتھ آسان کی جانب بلند کیے اور کہا: الحمد لله أنتم أهل بيت الرحمة يا أبا الحسن ثم قاللولا على لهلك عمر
شکر ہے خدا کا اے علی ! آپ اہل بیت رحمت ہیں اور پھر کہا: اگر آج علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا‘‘۔
حدیث رسول مقبول سردار دوعالم ہے: علی ! مسلمانوں کے سردار، متقین کے امام ، روشن پیشانی والوں کو جنت تک لے جانے والے ہیں ۔علی ہدایت کاعلم ہیں، اولیاۓ خدا کے امام ہیں،نور ہیں، فرمانبرداران الہی کے لیے اور وہ کلمہ ہیں جسے خدا نے متقین پر لازم کیا ہے۔ یہی علی صدیق اکبر ہیں، اس امت کے فاروق ہیں،مومنین کے سردار ہیں۔ یہ بمنزلہ فرقان عظیم اور ذکر عظیم کے ہیں ۔علی رسول کے لیے ایسے ہیں جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے‘‘۔

0 Comments