کنیز کے بچےکا باپ کون ؟     

            

ذخائر العقبٰی کے مؤلف نے زید بن ارقم سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ تین افراد ایک بچے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ (سیاق و سباق کے حوالے سے زمانہ جاہلیت میں ایک ہی وقت میں یہ کنیز تین افراد کی ہوس کا شکار ہوئی )۔ ان میں سے ہر ایک اس بچے کے باپ ہونے کا دعوی کر رہا تھا۔ جب معاملہ جناب امیر المومنین علیہ السلام کے پاس آیا تو آپ نے ان کے درمیان صلح کرانے کی بہت کوشش کی ،مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ معاملہ جوں کا توں ہی تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: اب میں ہر ایک کے نام قرعہ ڈالتا ہوں ، جس کے نام قرعہ نکلے گا یہ بچہ اس کا


ہوگا۔

قرعہ ڈالا گیا ، جس کے نام کے ساتھ لڑ کے کا نام نکلا ، اس کا بیٹا قرار دیا اور لڑکے کو غلام فرض کیا اور اس کی قیمت لگائی گئی ، اور دو تہائی قیمت دوسرے دوافراد سے لی جو اس بچے کے دعوے دار تھے۔

قرعہ اس طرح ڈالا گیا کہ ان تینوں دعوی داروں کے نام تین ٹکڑوں پر لکھے گئے اور ان کے ناموں کو تین ٹکڑوں میں چھپایا گیا۔ بچے سے کہا کہ ان میں سے ایک ٹکڑے کو اٹھاۓ ، ہر بار قر عہ ایک ہی آدمی کے نام نکلا۔ جب ختمی مرتبت نے فیصلہ سنا

تو آپ نے فرمایا

الحمد لله الذي جعل فينا اهلبيت من يقضى على ذخائر میں یہ روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: ”اگر یہ فیصلہ میرے سامنے لاتے تو میں بھی اس طرح فیصلہ کرتا جس طرح علی مرتضیٰ نے فیصلہ کیا ہے ۔


فرمان رسول ہے:

رعیت پر سب سے زیادہ مہربان، مقدمات میں سب سے زیادہ علم کے حامل اور خدا کے نزدیک بلحاظ فضل وشرف سب سے عظیم علی ہے‘‘ ۔