ایک کنیز کی طلاق کا معاملہ


سید علی ہمدانی شافعی کتاب مودة القربی میں اپی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں اور صاحب نایخ نے کتاب غریب الحدیث میں جناب امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ دو آدمی حضرت عمر کے پاس آۓ اور انھوں نے پو چھا: آپ کینر کی طلاق کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ حضرت عمر نے اس مسئلہ کے بارے پیچھے بیٹھے ہوۓ ایک ایسے شخص کی طرف دیکھا، جس کے سر پرنسبتا بال کم تھے ۔ اس سے سوال پوچھا گیا تو اس نے دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے عمر بن الخطاب! آپ امیر المونین ہیں۔ میں نے آپ سے کنیر کی طلاق کے بارے میں سوال کیا ہے ۔ آپ بجاۓ خود جواب دینے کے دوسروں سے سوال کرتے ہیں؟ جس نے جواب میں دوانگلیوں کا اشارہ کیا ہے ۔ حضرت عمر نے کہا: افسوس ہے تجھ پر کیا تو جانتا ہے کہ یہ کون سی شخصیت ہے؟ سے بھاری ہوگا‘‘ ۔ تمام علوم کی انتہاعلی علیہ السلام کی ذات پر ہوتی ہے۔


علی ابن ابی طالب ہیں۔ میں نے جن کے بارے میں رسول خدا سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: لو ان ايمان أهل الشمات والارض وضعت في كفة ووضعت أيمان علي في كفة لرجع ایمان علی ابن ابی طالب علیه السلام


اگر اہل زمین و آسان کے ایمان کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے پلڑے میں علی کا ایمان ہوتو علی کا ایمان ان


سے بھاری ہوگا‘‘۔ تمام علوم کی انتہا علی علیہ السلام کی ذات پر ہوتی ہے۔

مولاۓ کائنات علیہ السلام کے سینے میں علم کا ایک ایسا قلزم ذخار تھا جو ابر باراں کی صورت میں برستا۔ چنانچہ آپ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کرتے تھے:


ها ان ههنا لعلما جما لو اصبت له حملته (نح البلاغہ ) میرے سینے میں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ کاش مجھے ایسے افراد مل جاتے جنھیں میں اس علم کا امین بنا تا‘‘۔ محمد بن طلحہ شافعی جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے دانشور میں انھوں نے اپنی کتاب مطالب السئوال میں اس موضوع کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ تمام علوم اصولی ہیں یا فروعی ہیں انھیں شواہد بینہ کے ساتھ ثابت کیا ہے۔ ان علوم کا مرجع و منبع اور سر چشمہ امیر المومنین علی علیہ السلام ہی ہیں۔


کون و مکاں پہ جس کی ہے احسان کی نظر

 جس کو خراج دیتے ہیں مردان نکتہ ور 

ہے اختیار جس کا بھری کائنات پر 

مشکل کشائے دہر ہے علم نبی کا در 

عرش خدا پہ شب کو ہے جو اعتکاف میں

 بیِت خدا زمین پر ہے اس کے طواف میں